attack

Malfunctioning Roboa attack Engineer in Tesla Manfacturing Unit

ٹیسلا کمپنی کے روبوٹ کے انسان پر حملے کا انکشاف

معروف امریکی آٹومیکر اور ٹیکنالوجی کمپنی ’ٹیسلا‘ کی گاڑی بنانے والی فیکٹری کے ایک روبوٹ نے انسانوں پر حملہ کردیا، واقعے میں ایک انجینئر شدید زخمی ہوگیا۔ امریکی ویب سائٹ نیو یارک پوسٹ کے مطابق واقعہ امریکی شہر آسٹن میں قائم گیگا ٹیکساس فیکٹری میں پیش آیا، کمپنی کے دو عینی شاہد ملازمین نے بتایا کہ گاڑیوں کے پرزے اٹھانے پر مامور روبوٹ نے دھات سے بنے اپنے نوکیلے پنجے انجینئر کی کمر اور بازو میں گھونپے جس سے ملازم کا خون بہنا شروع ہوگیا اور وہ زمین پر گرگیا۔ رپورٹ کے مطابق ٹیسلا کے روبوٹ نے اس وقت حملہ کیا جب انجینئر 3 ناکارہ روبوٹس کے سافٹ ویئر ڈیزائن کررہا تھا۔ تین ناکارہ روبوٹس میں سے 2 کے سافٹ ویئرز کو بند کردیا گیا جبکہ تیسرا روبوٹ غیر ارادی طور پر فعال رہ گیا، جس نے انجینئر پر حملہ کردیا، زخمی انجینئر کو فوری طور پر اسپتال پہنچادیا گیا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ واضح رہے کہ امریکی آکوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ ایڈمنسٹریشن کو جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق واقعہ دو سال قبل 2021ء میں پیش آیا تھا۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گیگا ٹیکساس فیکٹری کا ہر 21 میں سے ایک ملازم گزشتہ سال زخمی ہوا تھا۔ امریکی میڈیا کے مطابق حملے کی وجہ سامنے نہیں آسکی، اس حوالے سے ٹیسلا کمپنی نے بھی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔

ٹیسلا کمپنی کے روبوٹ کے انسان پر حملے کا انکشاف Read More »

Dera Ismail Khan Terrorist Attack on Army

دہشتگردوں کا پاک فوج پر حملہ، پاکستان کا افغانستان سے شدید احتجاج،’ ڈو مور‘ کا مطالبہ

ڈی آئی خان میں دہشتگرد حملے میں پاک فوج کے 23 جوان شہید ہو ئے ہیں جبکہ 27 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا ہے ،حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان کے ایک گروہ نے قبول کی ہے جس پر پاکستان نے افغانستان کے ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرتے ہوئے سخت احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر دیا ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیاہے کہ درابن واقعہ کی ذمہ داری تحریک جہاد پاکستان نامی گروپ نےقبول کی اور اس کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ہے ، دہشت گرد حملے میں سیکیورٹی فورسز کے 23 جوان شہید ہوئے، افغان ناظم الامور کو پاکستان کا احتجاج اپنی حکومت تک پہنچانے کا کہا گیا ہے، افغان حکومت تازہ دہشت گرد حملے کے ذمہ داروں کیخلاف تحقیقات اورسخت کارروائی کرے،عبوری افغان حکومت دہشت گرد حملے کی اعلٰی سطح پراعلانیہ مذمت کرے۔ دفتر خارجہ کے مطابق افغان حکومت ایسے اقدامات کرے جو نظر بھی آئیں  اور دہشتگرد حملے میں ملوث افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی قیادت کو پاکستان کے حوالے کیا جائے ،پاکستان میں دہشت گردی کیلئےافغان سرزمین کےمسلسل استعمال کو روکا جائے،آج کا حملہ خطے کے امن و سلامتی کو دہشت گردوں سے درپش خطرات کا عکاس ہے، ہمیں دہشت گردی کی لعنت کو مل کر شکست دینا ہوگی ،پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عزائم پر سختی سے قائم ہے۔ اس سے قبل آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ صبح 6 دہشت گردوں نے درابن میں سیکیورٹی فورسز کی چوکی پر حملہ کیا، دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی کو چوکی سے ٹکرادیا، دہشت گردوں کے حملے میں 23 فوجی جوان شہید ہوگئے جبکہ سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے تمام 6 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فوسرز نے دہشت گردوں کی چوکی پر داخل ہونے کی کوشش کوناکام بنایا گیا۔ ناکامی پر دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی چوکی سے ٹکرا دی، خودکش حملہ بھی کیا گیا،دھماکوں کے نتیجے میں عمارت گر گئی۔ دوسری جانب ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں بھی مزید 4 دہشت گردوں کو ٹھکانے لگایا گیا، فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے 2 جوان شہید ہوگئے۔درازندہ میں خفیہ معلومات پر آپریشن کے دوران دہشت گردوں کا ٹھکانہ بھی تباہ گیا، آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کیا، ہلاک دہشت سیکیورٹی فورسز اور عوام پر حملوں میں ملوث تھے۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد بھی کیا گیا۔ علاقے میں مزید دہشت گردوں کی تلاش کیلئے آپریشنز جاری ہیں۔ سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کی لعنت ختم کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔

دہشتگردوں کا پاک فوج پر حملہ، پاکستان کا افغانستان سے شدید احتجاج،’ ڈو مور‘ کا مطالبہ Read More »

میانوالی ایئربیس پر حملہ، نو دہشتگرد ہلاک: ’اللہ خیر کرے، ایئرفورس بیس محفوظ رہے‘

  ’اللہ خیر کرے، ایئرفورس بیس محفوظ رہے۔‘ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر میانوالی ایئربیس سے ملحقہ علاقے میں رہنے والے محمد خالد کی آنکھ سنیچر کو رات گئے دھماکوں اور فائرنگ کی آواز سے کھلی تو ان کے ذہن میں پہلا خیال ایئربیس کا آیا اور انھوں نے دل ہی دل میں اس کی حفاظت کی دعا کی۔ صبح ہوتے ہی یہ خبر پھیل چکی تھی کہ میانوالی شہر میں پاکستان ایئرفورس کی مشہور بیس پر حملہ ہو گیا ہے۔ خالد سمیت میانوالی کے جن رہائشیوں سے بی بی سی نے بات کی ہے ان کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا سلسلہ صبح سے شروع ہوا وقفے وقفے دن تک جاری رہا۔ جس کے بعد پاکستانی فوج اور پاکستانی ایئرفورس نے اس دہشتگرد حملے کے خلاف جوابی کارروائی میں نو عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا اور کلیئرنس آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔ اعلامیوں کے مطابق حملے کے نتیجے میں ’پاکستان ایئرفورس فنکشنل اور آپریشنل اثاثوں میں سے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا البتہ حملے کے دوران صرف تین غیر آپریشنل طیاروں کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔‘ اس سے قبل ایک اعلامیے میں آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ ’اس دوران پہلے سے گراؤنڈ کیے گئے تین طیاروں اور ایک فیول باؤزر کو بھی کچھ نقصان پہنچا۔‘ میانوالی ایئربیس میانوالی شہر میں ہی موجود ہے اور اس کے اردگرد وقت کے ساتھ نئی ہاؤسنگ سکیمیں بھی بنائی گئی ہیں جس کے باعث اب اس کے اردگرد رہائشی علاقے وسیع ہوا ہے۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ آس پاس کے علاقوں میں کومبنگ آپریشن بھی کیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ یہ گذشتہ دو ماہ کے دوران میانوالی میں ہونے والا دوسرا حملہ ہے۔ اس سے قبل یکم اکتوبر کو ضلع میانوالی میں عیسیٰ خیل کنڈل میں ایک پولیس چوکی پر 12 سے 15 شدت پسندوں کی جانب سے کیے گئے حملے میں ایک پولیس کانسٹیبل ہلاک ہوا تھا جبکہ پنجاب پولیس کے مطابق جوابی کارروائی میں دو شدت پسند ہلاک اور ایک زخمی ہوا تھا۔ اس سے پہلے رواں سال فروری میں پنجاب پولیس کے مطابق میانوالی کے تھانہ مکڑ وال پر عسکریت پسندوں کی جانب سے کیا گیا حملہ پسپا کیا گیا تھا جس کے بعد عسکریت پسند بھاگنے پر مجور ہو گئے تھے۔ واضح رہے کہ اس حملے کی زمہ داری تحریک جہاد پاکستان نے قبول کی ہے جو نسبتاً ایک غیر معروف جماعت ہے۔ اس تنظیم نے اس حملے سمیت اب تک چھ حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تحریکِ جہاد پاکستان کیا ہے اور یہ تنظیم کب اور کیسے سامنے آئی؟ اکستان میں شدت پسندی سے جڑے حالیہ چند حملے ایسے ہوئے ہیں جن کی ذمہ داری ایک ایسی غیر معروف تنظیم نے قبول کی ہے جس کے بارے میں حکام اوریہاں تک کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے عہدیدار بھی کچھ نہیں جانتے یا شاید بتانے سے گریزاں ہیں۔ اکثر تجزیہ کار اسے ایک پراسرار تنظیم قرار دے رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس تنظیم کے ترجمان ان حملوں کی ذمہ داریاں تو قبول کرتے ہیں لیکن وہ اپنی تنظیم کے خدوخال کے بارے میں کچھ نہیں بتاتے۔ اس تنظیم کا نام ’تحریک جہاد پاکستان‘ بتایا جا رہا ہے اور اس سے پہلے مئ میں بھی پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے مسلم باغ میں ایف سی کیمپ پر حملے کی ذمہ داری اسی تنظیم نے قبول کی تھی۔ اس تنظیم کا نام چند ماہ پہلے ہی سامنے آیا جب اس تنظیم نے صوبہ بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں سکیورٹی فورسز پر حملے کی ذمہ داری پہلی بار قبول کی تھی۔ سینیئر صحافی اور خراسان ڈائری کے ڈائریکٹر نیوز احسان اللہ ٹیپو نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سال فروری میں انھیں ٹیلی فون پر پیغام موصول ہوا تھا جو بظاہر کسی یورپی ملک کے نمبر سے تھا۔ ’کال کرنے والے شخص نے اپنا نام ملا محمد قاسم بتایا اور کہا کہ انھوں نے ’تحریک جہاد پاکستان‘ کے نام سے تنظیم کی بنیاد رکھی ہے لیکن اس تنظیم کے بارے میں مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس کے دو دن بعد موبائل فون پر ایک میسج آیا جس میں کہا گیا کہ بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملے کی ذمہ داری وہ اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کرتے ہیں۔ اس حملے میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیا میں شدت پسندی اور اس سے جڑے مسائل پر گہری تحقیق کرنے والے تجزیہ کار عبدالسید نے بی بی سی کو بتایا کہ ’تحریک جہاد پاکستان‘ اب تک ایک پراسرار تنظیم ہے جس کی قیادت، ارکان اور وجود کے کوئی شواہد نہیں۔ بعض صحافیوں کو بھیجے گئے مختصر تحریری پیغامات کے ذریعے اس تنظیم کے قیام کا اعلان کیا گیا اور ایک سوشل میڈیا اکاونٹ یا کچھ صحافیوں کو تحریری پیغامات بھیج کر شدت پسند حملوں کی ذمہ داریاں قبول کی گئی ہیں۔ اب تک اس تنظیم کے سربراہ و ترجمان کے نام متعارف کیے گئے ہیں لیکن ان کے ماضی یا حقیقی کردار ہونے سے متعلق کوئی شواہد نہیں۔ اس تنظیم کے ترجمان اپنا نام ملا محمد قاسم لکھتے ہیں، جنھوں نے صحافیوں کی درخواست اور کوشش کے باوجود اب تک کسی سے بات نہیں کی اور فقط تحریری پیغامات بجھوائے ہیں۔

میانوالی ایئربیس پر حملہ، نو دہشتگرد ہلاک: ’اللہ خیر کرے، ایئرفورس بیس محفوظ رہے‘ Read More »