ELENA ZAKHARENKA

سیاستدانوں کو اغوا کرنے والے ’خصوصی ہِٹ سکواڈ‘ کا رکن جسکا اعتراف جرم

سیاستدانوں کو اغوا کرنے والے ’خصوصی ہِٹ سکواڈ‘ کا رکن جسے اعتراف جرم کے باوجود بری کر دیا گیا

Spy

یوری گاروسکی نے بیلاروس میں ایک ’ہٹ سکواڈ‘ کا حصہ ہونے کا اعتراف کیا تھا۔ یہ وہ سکواڈ تھا جس نے ملک کی اپوزیشن کے اہم رہنماؤں کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا تھا لیکن اس اعتراف کے باوجود انھیں سزا نہیں ہوئی اور عدالت نے انھیں بری کر دیا۔

گذشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں مقدمے کی سماعت کے دوران سپیشل فورسز کے اس سابق فوجی نے سنہ 1999 میں تین افراد کے اغوا اور قتل کے بارے میں تفصیلی بیان دیا۔ تاہم انھوں نے ان افراد کے قتل کا حکم دینے کے الزام کی تردید کی ہے۔

جب وہ اپنا بیان ریکارڈ کروا رہے تھے تو عدالت میں ان سے کچھ فاصلے پر پیچھے قتل ہونے والے سیاستدانوں کی بیٹیاں بیٹھ کر یہ کارروائی خود سن اور دیکھ رہی تھیں۔

ان سیاستدانوں کی بیٹیوں نے اپنے سر سے شفقت کا سایہ چھیننے والوں کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے 24 برس جدوجہد کی۔

تاہم جمعرات کو عدالت نے تمام کارروائی کے بعد یوری گاروسکی کو بری کر دیا۔

حیرت انگیز فیصلے میں جج نے کہا کہ اعترافی بیان دینے والے بیلاروسی ملزم کے مختلف بیانات میں تضادات پائے جاتے ہیں۔

جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ان جبری گمشدگیوں اور قتل کے پیچھے بیلا روسی حکام کی ملی بھگت بھی شامل ہے۔ تاہم جج کے مطابق عدالت کو شک سے بالاتر ثبوتوں کے ساتھ اس بات پر مطمئن نہیں کیا جا سکا کہ یوری گاروسکی اس مقدمے میں مجرم ہیں۔

والیریا کراسوسکایا، جن کے والد اناتولی لاپتہ افراد میں سے ایک ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ فیصلہ ’انتہائی مضیحکہ خیز‘ اور عقل کے منافی ہے۔

اعتراف جرم

اس مقدمے کی کارروائی کا آغاز اس وقت ہوا جب سنہ 2019 میں اس سابق فوجی نے خود صحافیوں سے رابطہ کر کے انکشاف کیا کہ وہ ملک کے سابق وزیرداخلہ یوری زیخارینکو، حـزب اختلاف کے رہنما وکٹر گونچر اور معروف بزنس مین ایناتولے کراسووسکی کے اغوا میں ملوث ہے۔

اس وقت یوری گاروسکی سوئٹزرلینڈ میں سیاسی پناہ لینے کی کوشش کر رہے تھے اور وہ حکام کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ سچ بتا رہے ہیں۔

انھیں شاید یہ امید تھی کہ تشہیر سے انھیں کچھ تحفظ بھی مل سکے گا کیونکہ ایک برس قبل وہ بیلاروس میں ایک کار حادثے کے بعد ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ اس حادثے کے بعد وہ دو ہفتے تک کوما میں رہے تھے۔ ابھی بھی وہ ایک چھڑی کے سہارے چلتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ یہ حادثہ انھیں جان سے مارنے کی کوشش تھی۔

اس مقدمے سے جڑے ہوئے کرداروں کے لیے یوری گاروسکی کی کہانی سچ کے قریب تھی۔ دو جبری طور پر لاپتہ کیے گئے بیلا روسی اشخاص کی بیٹیوں نے سوئس وکلا کے کے ذریعے اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت ٹرائل شروع کرنے کی درخواست کی ہے۔

یوری کو قید کرنے کے بعد ان سے تحقیقات کی گئیں اور پھر ان پر فرد جرم عائد کیا گیا۔

ELENA ZAKHARENKA

لاپتہ باپ

والیریا کراسوسکایا کو آج بھی یاد ہے کہ وہ 24 سال پہلے آدھی رات کو جاگ رہی تھیں کہ ان کی ماں نے پولیس، ہسپتالوں اور شہر کے مردہ خانے کو فون کیا کیونکہ ان کے شوہر واپس گھر نہیں آئے تھے۔

اناتولی، الیگزینڈر لوکاشینکو کے ناقد وکٹر گونچار کے ساتھ ’منسک‘ شہر کے ایک حمام میں گئے تھے۔ یہ وہ دن تھے جب الیگزینڈر اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کر رہے تھے۔

اگلی صبح والیریا کی ماں کو جائے وقوعہ پر خون کے دھبے اور ٹوٹا ہوا شیشہ ملا۔ ان کے شوہر اپنے دوست سمیت غائب ہو چکے تھے۔

گھر والوں کو اناتولی کراسوسکی کی لاش کبھی نہ مل سکی۔

’آپ نہیں جانتے، کیا وہ زندہ ہیں یا نہیں؟ اور اگر وہ مر گئے ہیں تو پھر کیسے اور اب ان کی لاش کہاں ہے‘؟ والیریا کے ان سوالات سے متاثرہ خاندانوں کے کرب کا اندازہ ہوتا ہے۔

والیریا کے مطابق ’آپ یہ باب بند نہیں کر سکتے، اس لیے آپ اس کے ساتھ جینا سیکھ لیں۔ لیکن یہ بہت مشکل ہے۔‘

GETTY IMAGES

والیریا سوئٹزرلینڈ کی عدالت میں یوری گاروسکی کو سننے گئی تھیں کہ کس طرح ان کی سپیشل فورسز یونٹ کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ وکٹر گونچار کے ساتھ ان کے والد کو حراست میں لے کر انھیں شہر سے باہر لے جائیں۔

اپنے پہلے بیان کے برعکس سابق فوجی یوری گاروسکی نے عدالتی کارروائی کے دوران متعدد بار اپنی صفائی میں یہ کہا کہ انھوں نے گولی نہیں چلائی اور نہ ہی گاڑی سے بندوق نکالی تھی۔

قید کی صعوبت دیکھ کر اب وہ اس سارے مقدمے میں اپنے کردار کو کم سے کم کر رہے تھے۔

لیکن انھوں نے اغوا اور تشدد میں براہ راست ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔ ان کے مطابق انھوں نے وکٹر گونچار کا منھ زمین پر پٹخ دیا تھا۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ کس طرح ’منسک‘ کی سرحد پر دو افراد کو پیٹھ میں گولی ماری گئی تھی۔

یوری گاروسکی نے کہا کہ انھوں نے لاشوں کو ایک گڑھے میں دفن کرنے میں مدد کی، جو پہلے سے کھودا گیا تھا۔ اس کے بعد ان کے کپڑے جلا دیے گئے تھے۔

اس کا انداز سفاکانہ تھا۔ والیریا نے یہ سب غور سے سنا، ہر نکتے کو وہ لکھ رہی تھیں۔ ایک دوست انھیں تسلی بھی دے رہے تھے۔

انھوں نے اس عدالتی سماعت سے قبل مجھے بتایا کہ ’اگرچہ میں بالکل نارمل اور خوشگوار زندگی گزار رہی ہوں، پھر بھی مجھے اپنے والد کی گمشدگی کا خیال جھنجھوڑتا ہے۔

’جب بھی میں اس کے بارے میں سوچتی ہوں تو مجھے بہت دُکھ ہوتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ عام بات ہے۔ لیکن میں ہلکا محسوس کرنا چاہتی ہوں‘۔

’انھوں نے کہا کھانا لگا دیں، بس میں گھر پہنچ ہی گیا ہوں‘

ایلینا زخارینکا کے لیے یہ پہلا موقع نہیں تھا جب انھوں نے چونکا دینے والا بیان سنا ہو۔

جن صحافیوں سے یوری گاروسکی نے پہلی بار خود اپنی کہانی سنانے کے لیے رابطہ کیا تھا انھوں نے سنہ 2020 میں ایلینا اور یوری کی ملاقات کا اہتمام کیا۔

اس نے ان تمام سوالوں کا جواب دیا جنھوں نے ایلینا کو اپنے والد کی گمشدگی کے بارے میں اذیت دی تھی۔

ایلینا نے مجھے بتایا کہ ان کے پاس یوری کی باتوں پر یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ ایلینا نے یوری گاروسکی کو اپنے اس بھیانک جرم پر ٹوٹا ہوا اور نادم دیکھا۔

یوری زخارینکو کے لاپتہ ہونے سے پہلے کے دنوں میں ان کے اہل خانہ ان کی حفاظت کے لیے اس قدر پریشان ہو گئے تھے کہ وہ ہر 10 منٹ بعد ان کے ٹھکانے کا پتہ لگانے کے لیے فون کرتے تھے۔

سابق وزیر نے اپنی برطرفی کے بعد سکیورٹی سروسز میں نمایاں حمایت برقرار رکھی تھی اور انھیں الیگزینڈر لوکاشینکو کے لیے خطرے کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔

ایلینا اپنے والد کے ساتھ اپنی آخری گفتگو کو یاد کرتی ہے کہتی ہیں کہ ’وہ پرسکون تھے، اس نے رات کا کھانا لگانے کے لیے کہا، وہ تقریباً گھر پہنچنے ہی والے تھے‘۔

MATTHEW GODDARD

ایک طویل عرصے تک خاندان پرامید رہا کہ یوری کو روسی انٹیلیجنس ایجنسی ’کے جی بی‘ کے عقوبت خانے میں پھینک دیا گیا اور وہ ابھی زندہ ہیں۔

یہ خام خیالی ہی ثابت ہوئی۔ مگر اب اس سوال نے ایلینا کا جینا دوبھر کر دیا کہ ان کے والد کی موت کیسے واقع ہوئی۔

وہ یہ سوچ رہی تھیں کہ ’کیا انھوں نے فوراً ہی ان کے والد کو قتل کیا یا انھوں نے پہلے انھیں کافی دیر تک تشدد کا نشانہ بنایا؟‘

ایلینا کا کہنا ہے کہ ’میری روح کو تھوڑا سا سکون دینے کے لیے میرے لیے یہ جاننا بہت ضروری تھا کہ میرے والد کی موت کے وقت وہ کس حال میں تھے‘۔

عدالت میں یوری گاروسکی نے وہی بات دہرائی جو انھوں نے 2020 میں انھیں بتائی تھی کہ ان کے والد کو ہتھکڑیاں لگا کر اغوا کیا گیا تھا اور پھر پیٹھ میں دو گولیاں ماری گئی تھیں، جن سے ان کی موت واقع ہو گئی۔

جب جج نے بیلاروس کے اس سابق فوجی سے پوچھا کہ انھوں نے حکم پر عمل کرنے سے انکار کیوں نہیں کیا تو یوری گاروسکی نے کہا کہ وہ بھی دیگر حکم نہ ماننے والوں کی طرح جان سے ہی مار دیے جاتے۔

انھوں نے اصرار کیا کہ اصل بندوق بردار بیلاروس میں بدنام زمانہ ایس او بی آر سپیشل فورسز یونٹ کا سربراہ دیمتری پاؤلیچینکو تھا۔ انھوں نے مختصر طور پر حراست میں لیے گئے کمانڈر کو صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے ذاتی احکامات پر حراست سے رہا کر دیا تھا۔

سنہ 2003 میں ’کونسل آف یورپ‘ کی تحقیقات نے پاؤلیچینکو کو جبری گمشدگیوں کا بھی ذمہ دار قرار دیتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ان جرائم کو ’ریاست کی اعلیٰ ترین سطح پر‘ سے خفیہ رکھا گیا۔

تفتیش کار کرسٹوس پورگورائڈس نے قبرص سے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ’اس کے پیچھے لوکاشینکو کا ہاتھ تھا‘۔

’اس طرح کے ممالک میں، اس نوعیت کا قتل سربراہ مملکت کے علم کے بغیر کبھی نہیں ہوتا‘۔

بیلاروسی حکام نے اس پر تبصرہ کرنے کے لیے ابھی تک بی بی سی کی درخواست کا جواب نہیں دیا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *