Operation Wrath of God

آپریشن فائنل‘ سے ’ریتھ آف گاڈ‘

آپریشن ’فائنل‘ سے ’ریتھ آف گاڈ‘ تک: اسرائیلی خفیہ ایجنسی کی کارروائیاں جنھوں نے دنیا کو حیران کیا

Aile Queen
ایلی کوہن

رواں سال 18 جون کو خالصتان کے حامی رہنما ہردیپ سنگھ نجر کو کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے شہر سرے میں قتل کر دیا گیا تھا۔

اس کے بعد ملک کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے پارلیمنٹ میں اس قتل کے پیچھے انڈین ایجنسیوں کے ہاتھ ہونے کا امکان ظاہر کیا تاہم انڈیا نے نہ صرف ایسے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا بلکہ اس قتل میں کسی بھی کردار سے انکار کیا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب کسی ملک نے دوسرے کسی ملک پر انٹیلیجنس آپریشنز کا الزام لگایا گیا ہو۔ ماضی میں انڈیا اور پاکستان کئی بار ایک دوسرے پر انٹیلیجنس مشن کے تحت مختلف سرگرمیاں کرنے کا الزام بھی لگا چکے ہیں

تو آئیے خفیہ ایجنسی  کے دو  خطرناک مشنز کے بارے میں بات کرتے ہیں جو دنیا کے مختلف ممالک میں کیے گئے۔

1960: ’آپریشن فائنل‘

Lieutenant Adolf Aikeman
لیفٹیننٹ کرنل ایڈولف ایڈولف ایکمان ایک طویل عرصے تک ہٹلر کی بدنام زمانہ ریاستی خفیہ پولیس ’گسٹاپو‘ میں ’جیوئش ڈیپارٹمنٹ‘ کے سربراہ رہ

سنہ 1957 میں مغربی جرمنی کی ریاست ہیسے کے چیف پراسیکیوٹر فرٹز باؤر نے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد سے رابطہ کر کے اطلاع دی کہ ایڈولف ایکمان زندہ ہیں اور ارجنٹائن میں واقع ایک خفیہ اڈے میں مقیم ہیں۔

لیفٹیننٹ کرنل ایڈولف ایکمان ایک طویل عرصے تک ہٹلر کی بدنامِ زمانہ ریاستی خفیہ پولیس ’گسٹاپو‘ میں ’جیوئش ڈیپارٹمنٹ‘ کے سربراہ رہے۔ ان کے دور میں ’فائنل سلوشن‘ (یعنی آخری حل) کے نام سے یہودیوں پر ظلم پر مبنی ایک انتہائی خطرناک پروگرام شروع کیا گیا۔

اس پروگرام کے تحت جرمنی اور دیگر ہمسایہ ممالک میں مقیم ہزاروں یہودی شہریوں کو ان کے گھروں سے حراستی کیمپوں میں لے جا کر قتل کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

سنہ 1933 اور سنہ 1945 کے درمیان نازی جرمن حکومت اور ان کے حامیوں کی طرف سے ہولوکاسٹ کے تحت تقریبا 40 لاکھ سے زائد یورپی یہودیوں پر ریاستی سرپرستی میں منظم طور پر ظلم و ستم کا سلسلہ شروع ہوا اور انھیں قتل کیا گیا۔

دوسری عالمی جنگ میں جرمنی کی شکست کے بعد ایڈولف ایکمان کو تین بار پکڑنے کی کوشش کی گئی تاہم وہ ہر بار گرفتاری سے بال بال بچ نکلتے۔

فریٹز بوور کو ارجنٹینا میں ایڈولف ایکمان مین کے قیام کی خبر وہاں رہنے والے ایک مقامی یہودی سے ملی جن کی بیٹی اور ایڈولف کے بیٹے کے درمیان افیئر چل رہا تھا۔

ابتدا میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے ان معلومات کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا تھا لیکن بعد میں جب انھوں نے اس کی اپنے طریقے سے چھان بین کی تو انھیں اس کی حقیقت پر یقین آ گیا۔

چارلس ریورس اپنی کتاب ’دی کیپچر اینڈ ٹرائل آف ایڈولف ایکمن‘ میں لکھتے ہیں کہ ’ایڈولف ایکمان بھلے ہی لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے کے افسر رہے ہوں تاہم نازی دور میں ان کا رتبہ کسی جنرل سے کم نہ تھا۔ اس عہدے پر رہتے ہوئے وہ ہٹلر کی سب سے قریبی ساتھیوں کو براہ راست رپورٹ کیا کرتے تھے۔‘

ارجنٹائن میں ایکمان کے روپوش ہونے کی خبر کی تصدیق ہونے کے بعد اسرائیل کے موساد کے سربراہ نے رفیع ایتان کو اس مشن کا کمانڈر مقرر کیا اور انھیں احکامات جاری کیے گئے کہ ایجنٹ انھیں زندہ پکڑ کر اسرائیل واپس لانے کی کوشش کریں گے۔

موساد کی ٹیم نے بیونس آئرس میں ایک گھر کرائے پر لیا، جسے خفیہ رکھنے کے لیے ’کیسل‘ کا نام دیا گیا۔

اسی دوران یہ بات سامنے آئی کہ ارجنٹائن 20 مئی کو اپنی آزادی کی 150 ویں سالگرہ منائے گا۔ اس خبر کے سامنے آنے پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ اسرائیل بھی وزیر تعلیم عبا ابن کی قیادت میں ایک وفد ارجنٹینا بھیجے گا۔

انھیں وہاں لے جانے کے لیے اسرائیل کی ایئرلائن نے اپنے خصوصی طیارے ’وسپرنگ جائنٹ‘ کا انتظام کیا۔

اس حوالے سے ایک منصوبہ تیار کیا گیا جس میں طے پایا کہ اسرائیلی وزیر تعلیم کے علم میں لائے بغیر ایکمان کو اغوا کر کے اس طیارے میں واپس اسرائیل لایا جائے۔

ایکمان ہر شام تقریباً سات بج کر 40 منٹ پر بس نمبر 203 کے ذریعے گھر واپس آتے اور پھر اپنے گھر پہنچنے کے لیے تھوڑا فاصلہ پیدل طے کیا کرتے تھے۔

اس معمول کو مد نظر رکھتے ہوئے منصوبہ بنایا گیا کہ اس آپریشن میں دو کاریں حصہ لیں گی اور انھیں ایک کار میں اغوا کر لیا جائے گا۔ ایکمان کو بس سے اترتے ہی اغوا کر لیا گیا۔

20 مئی کی رات ایکمان کو اسرائیلی ایئرلائن کے کارکن کا لباس پہنایا گیا تھا۔ زیف ذکرونی کے نام سے ایک جعلی شناختی کارڈ ان کی جیب میں رکھا گیا اور اگلے دن ان کا طیارہ تل ابیب میں اُترا۔

یہ خبر ان کے اسرائیل پہنچنے کے دو دن بعد دنیا کے سامنے رکھی گئی۔ کئی ماہ تک چلنے والے مقدمے میں 15 کیسز میں قصوروار پائے جانے کے بعد انھیں بلآخر موت کی سزا سنائی گئی۔

آپریشن ’رتھ آف گاڈ‘

Operation Wrath of God

سال 1972 کا تھا اور جرمنی میں میونخ اولمپکس کھیلوں کے مقابلے جاری تھے۔ پانچ ستمبر کی رات کو میونخ اولمپک ویلیج میں اسرائیلی کھلاڑی اپنے فلیٹ میں سو رہے تھے کہ اچانک پوری عمارت مشین گنوں کی آوازوں سے گونج اٹھی۔

’بلیک ستمبر لبریشن آرگنائزیشن‘ کے آٹھ فلسطینی جنگجو کھلاڑیوں کے لباس پہن کر اپارٹمنٹ میں داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں 11 اسرائیلی کھلاڑی اور ایک جرمن پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔

اس واقعے کے صرف دو دن بعد اسرائیل نے شام اور لبنان میں پی ایل او کے 10 ٹھکانوں پر بمباری کر کے انھیں تباہ کر دیا۔

کئی سال بعد جاری ہونے والی اسرائیلی پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر ہے کہ اسرائیل نے اس وقت دراصل کیا کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت کی اسرائیل کی وزیر اعظم گولڈا میر نے جوابی کارروائی کے لیے ’کمیٹی‘ تشکیل دی تھی جس کے انچارج موساد کے اس وقت کے سربراہ تھے۔

سائمن ریو کی کتاب ’ون ڈے ان ستمبر‘ میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح اسرائیل نے اس آپریشن کی تیاری میں ایک طویل وقت صرف کیا تھا تاکہ دنیا کے کسی بھی حصے میں چھپے میونخ کے حملہ آوروں کا پتہ چل سکے۔

اس وقت کے موساد کے سربراہ سائمن ریو لکھتے ہیں کہ ’16 اکتوبر 1972 کو ایجنٹس نے پی ایل او اٹلی کے نمائندے عبدل وائل زویتر کو روم میں ان کے گھر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا جو ایک طویل عرصے سے جاری مبینہ اسرائیلی انتقامی کارروائی کا آغاز تھا۔‘

اس کے بعد 9 اپریل 1973 کو موساد نے بیروت میں ایک مشترکہ آپریشن شروع کیا جس میں اسرائیلی کمانڈوز میزائل کشتیوں اور گشت کرنے والی کشتیوں میں رات کو لبنان کے ایک سنسان ساحل پر پہنچے۔

اگلی دوپہر تک ’بلیک ستمبر لبریشن آرگنائزیشن‘ کے روح رواں اور الفتح کے انٹیلیجنس ونگ کے سربراہ محمد یوسف (یا ابو یوسف)، کمال عدوان اور پی ایل او کے ترجمان کمال ناصر ہلاک ہو چکے تھے۔

بعض ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ اسرائیل نے یہ کارروائی اگلے پانچ سال تک جاری رکھی۔

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *